View cart “Ankh Wala Hussaini Sulemani Aqeeq – 9 Carats ( Black & White ) ism e Azam Dum Shuda – Mehrban Ali – Shamsi Jafari Qalandari | Mehrban Stones – Best Gemstones” has been added to your cart.
سادات کا علم طب سے ہر دور میں ایک گھرا رشتہ رہا ہے خُصُوصاً ہمارے اباواجداد اپنے خاندانی طبی نسخے جو امام جعفر صادق علیہ السلام سے منسوب ہیں ان سے ادویات بناتے تھے اور مریضون کا علاج کیا کرتے تھے چاہے وہ سید نور الدین پیر ستگور نور ہوں یا سید پیر شاہ شمس تبریز سبزواری، سید پیر صدرالدین شمسی ہوں یا سید پیر حسن کبیرالدین شمسی، سید پیر رحمت اللہ شاہ شمسی ہوں یا سید پیر محمد فاضل شاہ شمسی، سید حکیم امیر شاہ شمسی ہوں یا حکیم سید حسین شاہ شمسی وہ ہمیشہ اپنے خاندانی طبی نسخوں سے مریضوں کا علاج کرتے آرہے ہیں آج میرے چچا سید غلام رسول شاہ شمسی سبزواری کی مدد سے یہ عظیم قدیمی طبی نسخوں کی کتاب منظرِ عام پر آرہی ہے۔ تاکے ہمارے شمسی جعفری سادات خاندان کے قدیمی نایاب طبی نسخے گھر گھر پہنچ سکیں اور ہر خاص و عام اس سے فائدہ حاصل کر سکیں اللہ محمد و آلہ محمد کے صدقے آپ سب کو آباد وشاد رکھے آمین۔
پیر طریقت ست پنتھ سادات شمسیہ سید مہربان علی شمسی سبزواری کڑیوال شاہ شمسؒ کے فقر اور طریقت کی دستار کے وارث، سجادہ نشین شمسی کڑیوال سادات خاندان
سائیں مہربان علی کی طرف سے تمام مومنیں کے لیے تحفہ
اس کتاب میں ہمارے اباواجداد کے لکھے ہوئے تقریبن 1000 سال پرانے گنان یعنی (اہل بیت علیہ السلام کی شان میں شاعری) جو پشت در پشت ہمارے بزرگوں نے تحریر کیے ہیں موجود ہے۔ ہمارے ابا واجد جس صنف میں شاعری تحریر فرماتے تھے اُسے (گنان )کہا جاتا ہے، گنان کا مطلب (روح کی آواز) جب سالوں سے اہل بیت علیہ السلام کے ماننے والے تقیہ میں تھے تب ہمارے خاندان نے گنان کے وسیلے سے یہ علان کیا کے اپنے روح کے اندر چھوپی ہوئی پنجتن پاکؑ سے محبت کو ظاہر کرو اور یوں گنان کہنا اور لکھنا ہمارے خاندان سے منسوب ہوگیا۔ ہمارے پاس ہمارے خاندان کے تقریبن( 1632 گنان) موجود ہیں جو انشااللہ ہم رفتہ رفتہ پبلش کروائیں گے۔ اللہ کا شکر ہے شمسی جعفری سادات وہ پہلا سادات خاندان ہے جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کرا یہاں ست پنتھ یعنی (سچے رستے) کی تبلیغ کی اور ہند و سندھ میں سب سے پہلے قصیدہ اہل بیت علیہ السلام لکھنے اور پڑھنے کا بنیاد رکھا جو قیصدے یہاں کی مقامی زبانوں میں ہوتے تھے اسی وجہ سے ہمارے بزرگوں کی لکھی ہوئی شاعری میں مختلف زبانوں کے الفاظ شامل ہیں جیسے کہ سندہی،گجراتی، سنسکرت،ھندی وغیرہ اور یوں اس خطے کے لوگ جو اکثر عربی، فارسی کم سمجھتے تھے اُن کو بھی یہاں کی زبانوں میں اہل بیت علیہ السلام کا مرتبہ و مقام سمجھ آنے لگا اور یوں رفتہ رفتہ اپنی اپنی مقامی زبان میں حمد،نعت،قصیدہ مولا علیؑ اور قصیدہ اہل بیت علیہ السلام لکھنے کا رواج عام ہوگیا۔
پیر طریقت ست پنتھ سادات شمسیہ سید مہربان علی شمسی سبزواری کڑیوال شاہ شمسؒ کے فقر اور طریقت کی دستار کے وارث، سجادہ نشین شمسی کڑیوال سادات خاندان
سائیں مہربان علی کی طرف سے تمام مومنیں کے لیے تحفہ